ہم کسی بھی زمانے کا لٹریچر اٹھا کر پڑھ لیں۔ ہر دور میں انسان اپنے حالات سے شکوہ کناں ہی نظر آتا ہے۔ وہ یہی سوچتا ہے کہ تاریخ ِانسانی ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے اور عن قریب ایک سنہرے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ مگر یہ محض انسان کا گمان ہی رہتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی سماج میں مسائل اور اس کی گھمبیری میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج کا انسان تمدنی اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ کائنات کو پوجنے والا انسان آج علم و ہنر کے ارتقا کی بدولت کائنات کو مسخر کرنےمیں جُتا ہوا ہے مگر یہ ترقی ایک دوسرے کو زِک پہنچانے اور اخلاقیات کو زَمیں بوس کرنے کی استعداد میں بھی ہوئی ہے ۔پتھر سے شکار کرنے والا انسان آج ارتقا کرکے محض لفظوں سے ہی اپنا شکار گھائل کردینے میں ماہر ہوچکا ہے۔

جدید تہذیب آج اپنے علمی و سائنسی سفر کی معراج پر ہے مگر انسانی اقدار اب اپنی زمین کھو کر پاتال میں بھٹک رہی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے لاکھ جتن ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔کچھ لوگ اس صورت کا قصور وار مذہب کو ٹھہرا کر اس سے لاتعلق ہوچکے ہیں جب کہ کچھ لوگ ایک نئے عالمی فلسفے کی تشکیل میں سرگرداں ہیں۔ بعض اندھے ذہن بے لگام آزادی میں بھی اپنا مستقبل دیکھ رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کا ماننا ہے کہ ہمارا روشن مستقبل شرح خواندگی بڑھانے میں ہی پنہاں ہے ۔مگر کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ آج اس جدید آزادی کے بعد انسان کا تقدس اور تکریم کیا رہ گئی ہے؟ کیا ہم مشاہدہ نہیں کر رہے کہ ہمارے سامنے ایک ایسی نئی نسل ہے جو سائنسی و تکنیکی مہارتوں سے تو مزین ہے مگر اخلاقی اقدار سے بانجھ ہو چکی ہے۔اس دم توڑتی ہوئی انسانیت کے لیے مذہب ایک بہترین پناہ گاہ ہوسکتی تھی جہاں اسے بقا کی ضمانت مل جاتی ، مگر افسوس کہ امن و آشتی کے اسی علم بردار مذہب کو بھی ہم نے ظلم و استبداد کا آلہ بنا کر رکھ دیاہے۔اب مذہب کے نام تجارت اور نجات کے نام پر قتل ِ عام کا بازار گرم ہے۔

اس کرب کے سدباب کے لیے ہمیں مذہب، فلسفہ یا ٹیکنالوجی کی صورت میں کسی بھی نئے درماں کی ضرورت نہیں۔ہمیں انسانیت کے احیاء کے لیے فقہ و فلسفہ ، سائنس اور منطق کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ سرزمینِ ہند کے حکماء سے لے کر ریگزارِ عرب کے پیغمبروں تک ، سبھی مقدس نفوس کی تعلیمات کا مطالعہ کرلیجیے، علمی و مادی ترقی ان کے ہاں کبھی قابلِ بحث مسئلہ نہیں رہا۔ بحیثیتِ مسلمان قرآن مجید پڑھ لیں ، احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مطالعہ کرلیں۔ ہر ایک آیت اور ہر ایک حدیث سے یہی آشکار ہوگا کہ انسان کی فلاح کے لیے اس چیز کی چنداں اہمیت نہیں ہے کہ انسان سائنس سے کتنا فیض یاب ہوتا ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو کس طرح مختلف غلاظتوں سے پاک کرسکتا اور دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح خیر و سلامتی کا منبع بن سکتا ہے۔ اگرہم انسان مادی میدان کی طرح اخلاقی میدان میں بھی کوئی انقلاب لاکر روحانیت کا یہ رشتہ استوار نہیں کرتے تو جان لینا چاہیے کہ اس کے بغیر اس کرہ ارض پر امن و سلامتی کی ضمانت دینے کا اورکوئی ذریعہ نہیں ہے۔

حافظ محمد شارق