زیر نظر تحریر ایک پاکستانی عیسائی دوست کے ایک مختصر آرٹیکل کا تفصیلی جواب ہے جس میں مسیحی دوست نے پادری برکت اے خان سیالکوٹی کے رسالے ""___انجیل برنباس کی صحت و قدامت کے متعلق شبہات اٹھا کر اس کے جعلی اور غیر مستند ہونے کا نتیجہ برآمد کیا ہے. مسیحی ساتھی کو جواب لکھنے سے قبل اس کی پوری تحریر من و عن نقل کردی ہے تاکہ قاری جواب پڑھ کر مسیحی مؤقف کے قوی یا ضعف ہونے کا نتیجہ خود برآمد کر لے. یہ بات قابل یاد دھانی ہے کہ اگر موجودہ انجیل برناباس جعلی ہے تو اہل اسلام کو کوئی شوق نہیں ہے کہ اسے اصل ثابت کیا جائے اور نہ ہی کسی مسلم عقائد یا صداقت اسلام اس انجیل کی قدامت و صحت پر منحصر ہے. پوپ گلاسیس نے نزول قرآن سے 115 برس قبل ممنوعہ کتب کی فہرست شائع کی تھی جس میں انجیل برنباس بھی شامل تھی. اس لئے انجیل برناباس سے مکرنا تو ممکن نہیں ہے ہاں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ مسیحی برادری چونکہ اسے جعلی انجیل قرار دیتی ہے لہذا ان سے گذارش ہے کہ ہمیں اصلی انجیل پیش کر دیں کیونکہ اناجیل کا معاملہ تو مسیحیوں کا ہی ہے. جس دن مسیحیوں نے ہمیں اصل انجیل برناباس دکھا دی اسی دن ہم موجودہ انجیل برناباس کو خیر باد کہہ دیں گے. احقر عبداللہ غازی =================================================== جناب مسیح کے بارہ شاگردوں میں سے کسی کا بهی نام برنباس نہیں تها اور نہ ہی ایسا شخص تها جو حضورِ المسیح یہوشواہ کا چشم دید گواہ ہوا جس کا نام برنباس تها- برنباس نامی ایک نوجوان تها جو پولس رسول کا ہمخدمت تها. اس نے عالم مسیحت کے لیے بہت سا کام کیا.جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہو سکتی. اور وہ برنباس اس جعلی انجیل برنباس کے لکهے جانے کے پندرہ سو سال پہلے ہی خداوند میں سو گیا تها. اس جعلی انجیل برنباس کا 19 42 سے قبل کوئی نام و نشان نہیں تھا. اور یہ اس کے بعد ہی کی کاوش ہے. اس جعلی انجیل برنباس کی جلد بندی اور ہسپانوی ترجمہ کی تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے. کہ یہ جعلی انجیل برنباس 15 50 سے 15 90 کے دوران لکهی گئی. اس کی جائے تصنیف بهی ہسپانیہ میں ہی ہے. کیونکہ مذکورہ سکہ اسپین میں استعمال ہوتا ہے. نیز یہ انجیل مشرق میں نہیں بلکہ مغرب میں تحریر ہوئی . اس کی 222 فصلیں اور تقریباً 308 صفحات ہیں. یہ جعلی انجیل برنباس 15 85 تا 15 90 کے دوران پوپ سکسٹس پنجم کے کتب خانے سے ملی جس کا بعد میں اطالوی زبان سے انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا ... یہ ترجمہ لینسڑ یل اور لاراراگ نے 19 07 میں کیا...پهر مصر کے ایک مسیحی عالم ڈاکٹر خلیل سعادت نے انگریزی سے عربی زبان میں اس جعلی انجیل کا ترجمہ کیا. یہ ترجمہ 1908 میں ہوا...اس کے بعد 1916 میں مولوی محمد حلیم انصاری نے اس کا ترجمہ اردو میں کیا...اور ملک کشمیر بک ڈپو اوکاڑہ پاکستان نے 28 ستمبر 1961 میں لاہور آرٹ پریس انار کلی لاہور سے پہلی بار شائع کیا.. اس کا دوسرا اردو ترجمہ مرے کالج سیالکوٹ کے پروفیسر آسی ضیائی نے کیا تها...جسے اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ نے 13 شاہ عالم مارکیٹ لاہور سے شائع کیا. .جبکہ ترجمہ کے لحاظ سے اگر میں کہوں تو مولوی محمد حلیم انصاری کا ترجمہ زیادہ بہتر اور اچھا ہے. جب میں یہ کہتا ہوں. کہ اس جعلی انجیل بربناس کا مصنف کوئی مسلمان ہیں. تو اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں. کیونکہ اس میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کا ذکر ہے کہ قربانی حضرت اسماعیل کی ہوئی. حالانکہ اگر یہ انجیل اصل ہوتی تو حضرت اسماعیل کی جگہ حضرت اسحاق کا ذکر ہوتا. کیونکہ تورات و زبور و صحائف اور انجیل شریف کے مطابق قربانی اسماعیل کی نہیں ہوئی. بلکہ اضحاق کی ہوئی. دوسری وجہ یہ ہے. کہ اس میں آیا ہے. کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا جس سبب سے وہ شیطان ٹهرا اور یہ تعلیم نہ تورات کی نہ ہی زبور و صحائف کی اور نہ ہی انجیل منورہ کی ہے. بلکہ یہ اسلامی تعلیم ہے. اگر اس انجیل کا مصنف کوئی مسیحی ہوتا تو وہ ایسا قطعی نہ لکهتا. تیسری بات یہ ہے. کہ اس جعلی انجیل برنباس میں جو آدم کے جنت سے نکلنے کا ذکر ہے اس کا تورات سے کوئی تعلق نہیں ہے. بلکہ یہ بالکل اسلامی تعلیم ہے. چوتهی وجہ یہ ہے. کہ اس کتاب میں مرقوم ہے. کہ جب آدم جنت سے نکالا گیا تو انہوں نے باغ جنت پر کلمہ لکھا ہوا دیکھا. اور اس کا ذکر نہ تو کسی یہودی کتاب میں اور نہ ہی مسیحی کتاب میں ہے. یہ اسلامی روایات کی بات ہے. پانچویں بات یہ ہے. کہ اس جعلی انجیل برنباس میں بار بار قسمیں کهانے کا ذکر آیا ہے. یہ بات قابلِ قبول ہے. کہ قرآن مجید میں تو بار بار قسموں کا ذکر آیا ہے. مگر حضور المسیح یہوشواہ نے قسمیں کهانے سے منع کیا ہے. جس سبب سے اس کتاب کا مصنف مسیح کے حواریوں میں سے نہیں ہو سکتا. چهٹی بات یہ ہے. کہ اس کے موضوعات کو بھی اس انداز سے بیان کیا گیا ہے. جو اسلامی تعلیمات کے گردا گرد ہی کهومتے ہے. جبکہ مسیحی تعلیمات سے ان کا دور کا بهی طالق نہیں ہے. مثلاً یہ کہ. *حضرت عیسٰی کو ابن خدا کہنا کفر ہے- *یہ کہنا کہ یسوع ہی مسیح ہے کفر ہے- *یہ کہ یسوع المسیح محض ایک نبی تهے- *یہ کہ مسیح حقیقی مسیح کئ راہ تیار کرنے والے تهے- *جو حقیقت میں المسیح ہیں وہ آپ پیغمبر اسلام ہیں- اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وعلہ وسلم نے اس جعلی انجیل برنباس کا کبهی ذکر نہیں کیا. قصہ مختصر یہ کہ مذکورہ جعلی انجیل برنباس نہ تو مسیح سے متعلق صحیح معلومات فراہم کرتی ہے. اور نہ ہی اس کے بیانات قرآن مجید سے ملتے ہیں . اس کی وجوہات میں سب سے بڑی بات یہ ہے. کی تاریخی اور جغرافیائی واقعات اس میں بیان کئے گئے ہیں. وہ نہ صرف انجیل مقدس سے بلکہ قرآن سے بھی متصادم ہیں. اگر کوئی مسلمان بھائی اسے سچا سمجھتا ہے تو وہ اسے مسیحیوں کے خلاف استعمال کرتا ہے. از راہ کرم ہم ابلیس کے آلہ کار نہ بنے اور ایک دوسرے میں ایسے اختلافات نہ ڈالیں جو ہمیں ایک دوسرے سے دور لے جاتے ہیں. ...برکت و سلامتی. =================================================== مذکورہ تحریر میں مسیحی دوست نے چند وجوہات کی بناء پر انجیل برنباس کو رد کرنے کی وجہ بتلائی یے. ١.اس میں قربانی کا فرزند اسحاق علیہ السلام کے بجائے اسماعیل علیہ السلام کو بتایا گیا ہے جبکہ بائبل اس کے برعکس بتاتی ہے. ٢.اس انجیل میں آدم کو شیطان کا سجدہ نہ کرنا، آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا جاتا، وقت خروج جنت آدم علیہ السلام کا باغ عدن پر کلمہ لکھا دیکھنے کی وقائع نگاری کی گئی ہے اور یہ وقائع عہد قدیم میں موجود نہیں بلکہ یہ اسلامی تعلیمات ہیں. ٣.اس انجیل میں قسمیں کھانے کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یسوع کی تعلیم اس کے منافی ہے لہذا اگر اس انجیل کا مصنف کوئی یسوع کا ساتھی ہوتا تو وہ یسوع کی تعلیم کے برعکس کام نہ کرتا. ٤.اس کے موضوعات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں جس میں ایک بھی مروجہ مسیحی تعلیم شامل نہیں ہے. ٥.اس میں شامل تاریخی واقعات انجیل و قرآن سے متضاد ہیں (جن واقعات کے متعلق متضاد ہونے کا دعوٰی کیا ہے اس کی ایک نظیر بھی مسیحی برادری پیش نہیں کرتی ہے). 1. تورات کا یہ مقام سب سے زیادہ یہودی و مسیحیوں کے باطل قلم کی بطالت کا شکار رہا ہے. یہودیوں نے اپنے نسلی تفاوت کو برقرار رکھنے اور پیغمبر اسلام کے آل اسماعیل سے آنے کی وجہ سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے رتبہ کی تحقیر و تنقیض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حتی کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے کتاب مقدس میں تحریف کرنے سے بھی گریز نہیں کیا. اگرچہ یہ موضوع اپنی ذات میں خود تفصیل طلب ہے لیکن یہاں ہم چند نکات پر ہی گفتگو کریں گے. تورات اس بات کی گواہ ہے کہ قربانی ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے کی ہوئی (پیدائش 22:12، 22:16) اور اسحاق علیہ السلام کو اسماعیل علیہ السلام کی موجودگی میں کبھی بھی اپنے والد کا اکلوتا بیٹا قرار نہیں دیا جا سکتا نہ ہی ابراہیم علیہ السلام کے حین حیات نہ ہی ان کے بعد حتی کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی اسحاق علیہ السلام اکلوتے بیٹے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکتے ہیں. وہ بی بی سارہ کے تو اکلوتے بیٹے ہو سکتے ہیں مگر ابراہیم علیہ السلام کے نہیں اور قربانی ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے کی ہوئی. بائبل کے بیان کے مطابق جب ابراہیم علیہ السلام چھیاسی برس کے تھے تب اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور جب ابراہیم علیہ السلام ننانوے برس کے ہوئے تب اسحاق علیہ السلام کی پیدائش ہوئی. جب اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی عمر چودہ سال تھی. اب بائبل کا بیان تو اسماعیل علیہ السلام کو چودہ برس تک اکلوتا فرزند قرار دے رہی ہے مگر بائبلی حقائق کے برعکس عیسائیوں نے اسحاق علیہ السلام کو وعدے اور قربانی کا فرزند قرار دے رکھا ہے.جبکہ بنو اسماعیل میں مروج قربانی کی بہت سی رسومات میں سے کوئی بھی رسم اِس قربانی سے میل نہیں کھاتی جو بنو اسماعیل روز اول سے ہی اپنے جد امجد کی یادگار کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں . یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے اس پر محترم جناب ظفر اقبال صاحب ایک معرکۃ الاراء مفصلا مضمون لکھ چکے ہیں وہاں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے. 2. آدم علیہ السلام کو شیطان کا سجدہ نہ کرنا، آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا جاتا، وقت خروج جنت آدم علیہ السلام کا باغ عدن پر کلمہ لکھا دیکھنے کی وقائع نگاری بائبل میں مذکور نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان واقعات کا کبھی وجود ہی نہیں تھا. ضروری نہیں کہ بائبلی وقائع نگاری جمیع تاریخی واقعات کا احاطہ کئے ہوئے ہو. خود انجیل سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے بارے میں عہد قدیم بالکل خاموش ہے. جیسا کہ یہوداہ کے خط میں لکھا ہے کہ مُقرّب فرِشتہ مِیکائیل نے مُوسیٰ کی لاش کی بابت اِبلِیس سے بحث و تکرار کی (یہوداہ 1:9) یہ واقعہ عہد قدیم میں کدھر مذکور ہے اس بارے میں عہد قدیم خاموشی کے سوا کچھ جواب نہیں دیتا. اسی طرح یہوداہ کے خط میں ہی دوسرا واقعہ بھی مذکور ہے. حنُوک نے بھی جو آدم سے ساتِویں پُشت میں تھا یہ پیشِینگوئی کی تھی کہ دیکھو، خُداوند اپنے لاکھوں مقدّسوں کے ساتھ آیا۔ (یہوداہ 1:14) عہد قدیم میں اس واقعے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے لہذا اگر اس "مشکوک" وقائع نگاری کے باوجود یہوداہ کا خط الہامی ہے تو انجیل برنباس الہامی کیوں نہیں؟ 3. یسوع کے قسم کی بابت تعلیم دینے کی اصل تفہیم عہد قدیم کی روشنی میں ہی واضح ہو سکتی ہے کیونکہ یسوع کی خود کی کوئی تعلیم نہیں تھی بلکہ انہوں نے تورات کی ہی تعلیم کو اس کی اصل روح میں بیان فرمایا جو انسانی روایات کو دھول میں دب چکی تھیں. یسوع نے فرمایا. یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں توریت یا نبِیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہِیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔ (متی 5:17) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یسوع جو کہ تورات مقدسہ کی تعلیمات کو ہی زندہ کرنے آئے تھے کیا وہ خلاف تورات تعلیم دے سکتے تھے؟ ہرگز نہیں بلکہ ان کی تعلیمات عین شریعت کی تعلیم تھی اور شریعت میں قسم اٹھانے کی ممانعت نہیں تھی. عہد قدیم میں جابجا قسم اٹھانے کا ذکر ہے حتی کہ سامی مذاہب کے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے بھی قسم اٹھانا ثابت ہے. ابؔرہام نے کہامَیں قسم کھاؤنگا (پیدائش 21:24) خدائے واحد نے بھی عہد قدیم میں قسمیں اٹھائی ہیں جو کہ ایک قاری بائبل سے ہرگز مخفی نہیں ہیں. خُدا یقیناً تُمکو یاد کریگا اور تُمکو اس ملک سے نکال کر اُس ملک میں پہنچائیگا جِسکے دینے کی قسم اُس نے ابرؔہام اور اِضؔحاق اور یعؔقوب سے کھائی تھی۔ (پیدائش 50:24) عیسائی برادری کے مطابق یسوع خود خدا ہیں تو عہد قدیم میں جابجا قسمیں اٹھانے والا خدا عہد جدید میں آکر کیسے قسم کے بر خلاف تعلیم دے سکتا ہے جبکہ ببانگ دہل یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ خداوند کا کلام اٹل اور لاتبدیل ہے. حقیقت تو یہ ہے کہ یسوع نے شریعت کی اصل روح کی تعلیم دی اور ان تمام خرافات کو ممنوع قرار دے دیا جو قسم اٹھانے کے معاملات میں مروج ہو چکی تھیں. ان کی تعلیم میں آسمان کی اور زمین کی قسم اٹھانے سے ممانعت دراصل خدا کی ذات کی قسم اٹھانا ہی ہے اس متعلق معروف یہودی النسل عالم ہائم مکابی لکھتے ہیں کہ قدیم ربائی تحاریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی خداوند کے نام کو زبان سے ادا نہیں کر سکتے اسی وجہ سے خدا کی قسم اٹھانے کے لئے آسمان کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے (جیسا کہ متی 22:23 سے پتہ چلتا ہے)اور اسی طرح سے زمین کی قسم بھی کیونکہ زمین خدا کے جلال کی نشانی ہے. اسی وجہ سے یسوع نے تورات کی قسم کی بابت تعلیم کی اصل روح کو کو بیان کیا. تمہیں میرے نام پر جھو ٹی قسم نہیں کھا نی چا ہئے ۔ کیو نکہ یہ میرے نام کو رُسوا کرتا ہے ۔ تمہیں اپنے خداوند کے نام کی تعظیم کر نی چا ہئے میں خداوند ہو ں۔ (احبار 19:12) اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع کا مافی الضمیر اس کے ماسوا کچھ نہ تھا کہ اپنے قول و فعل میں اتنے سچے ہو جاؤ کہ قسم اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے. اگر یہ توجیح مسیحی برادری کے نزدیک مشکوک ہے تو پھر عہد جدید میں سے پولس کے ان تمام خطوط کو نکال باہر کرنا چاہیے جہاں جابجا مقدس پولس نے یسوع کی تعلیم کے برخلاف قسمیں اٹھائی ہیں. اگر قسم اٹھانا یسوع نے ممنوع قرار دیا ہوتا تو پولس کا سارا قسمیہ کلام غیر الہامی اور مخالف مسیح ثابت ہوتا ہے. مُجھے اُس فخر کی قَسم جو اور خُداوند مسِیح یِسُوع میں تُم پر ہے (1-کرنتھیوں 15:31) خُدا کی سَچّائی کی قَسم کہ ہمارے اُس کلام میں جو تُم سے کِیا جاتا ہے (2-کرنتھیوں 1:18) مسِیح کی صداقت کی قَسم جو مُجھ میں ہے۔ (2-کرنتھیوں 11:10) مَیں تُمہیں خُداوند کی قَسم دیتا ہُوں کہ یہ خط سب بھائِیوں کو سُنایا جائے۔ (1-تھسلنکیوں 5:27) یسوع کی تعلیم کے بر خلاف قسمیں اٹھانے والے پولس، مسیحی برادری کے نزدیک رسول بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے خطوط الہامی بھی کیونکہ یہ انہی عقائد کا پرچار کرتے ہیں جو مشرک اقوام سے مستعار لے کر الہام کے نام پر پیش کئے گئے لیکن انجیل برنباس فقط اس وجہ سے مستند و الہامی نہیں کہ وہ انہی مشرکانہ پولوسی افکار کی کھل کر مخالف ہے جن کا یسوع سے تعلق بعد المشرقین کا ہے. ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ برنباس یسوع کے حواریین میں سے نہیں اور جب وہ رسولوں میں شامل نہیں تو پھر ان کا کلام بھی الہامی نہیں. اگر عہد جدید میں شمولیت کے لئے کسی تحریر کا رسولی تصنیف ہونا ضروری ہے تو پھر مقدس پولس کے مخطوطات کے لئے کیا رائے قائم کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ یسوع مسیح کے شاگرد نہیں تھے بلکہ انہوں نے یسوع مسیح کے شاگردوں سے بھی کچھ نہیں سیکھا تھا اور وہ یہ اقرار غلاطیوں کے خط میں خود کرتے ہیں. اب عیسائی برادری برناباس کو چاہیں کچھ تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن پولس عیسائیوں کے اپنے مقرر کردہ معیار پر پورے اترنے سے قاصر ہیں. اس کا کیا علاج؟ شاید یہ ریاکاری سے زیادہ عقل و شعور سے تہی دامن ہونے کا معاملہ ہے. پولس تو اس ٹیم کے تیرھویں بھی نہیں چودھویں کھلاڑی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے. عیسائی دوست نے انجیل لکھنے کے لیے یسوع کا شاگرد اور عینی شاہد ہونے کا راگ الاپا ہے. میں پوچھ سکتا ہوں کہ لوقا اور مرقس کس طرح اس زمرے میں آتے ہیں؟ خاص طور پر لوقا کا معاملہ تو کسی بھی طرح اس معیار کو نہیں پہنچتا یعنی کہ یہ مشکوک انداز میں بھی اس مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا. اب مسیحی ساتھی تھوڑی سی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہوئے کم از کم انجیل لوقا سے ہماری جان چھڑا ہی دیجئے کہ سنی سنائی باتوں کا کیا اعتبار. یاد رہے کہ برنباس وہی بزرگ ہیں جنہوں نے پولس کی صداقت کی گواہی دی، اگر اس برنباس کی انجیل جعلی ہے تو پھر اس کی گواہی کیسے معتبر ہو گئی؟ نیز اس کے علاوہ پادری برکت اللہ اپنی کتاب "صحت کتب مقدسہ" میں برنباس کے خط کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قدیم کلیسیاء میں اس خط کو پڑھنے کا رواج چلا آرہا تھا. حقیقت تو یہ ہے کہ برنباس کی انجیل و خط دونوں ہی کلیسیاء میں مقدس نوشتوں کے طور پر مروج تھے جنہیں بعد میں قبل از اسلام انچاسویں پوپ گلائیسس کے حکم سے ممنوع قرار دے دیا گیا (بحوالہ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا). آج بھی عہد جدید کے کئی کوڈیکس میں برنباس کا خط شامل ہے جس کا ذکر کرنے کی کسی دلیلی پادری میں سکت نہیں. 4. پوپ گلائیسس کے حکم سے ممنوع قرار دی جانے والی انجیل برنباس پر پابندی اسلام سے قبل ہی لگائی جا چکی تھی لہذا اس میں موجود تعلیمات کو اسلامی تعلیمات کہنا کسی طور بھی درست نہیں بلکہ یہ تاویل مسیحی برادری کی بے بسی کا اشتہار ہے اور اس کے جواب میں کٹ حجتی کے سوا مسیحیوں کے پاس کچھ بھی نہیں. اگر مسیحیوں کی اس بات سے کسی درجہ میں اتفاق کر بھی لیا جائے کہ برناباس کی انجیل جعلی ہے تو پھر موجودہ اناجیل اربعہ کو کیونکر جعلی کے بجائے حقیقی قرار دیا جا سکتا ہے؟ وہ کون سی کسوٹی ہے جس پر دیگر اناجیل کو پرکھا گیا اور صرف چار اناجیل ہی معیاری اور باقی کی سینکڑوں تحاریر کو جعلی قرار دیکر ضایع کردیا گیا؟ ( صحت کتب مقدسہ از :علامہ آرچ ڈیکن برکت اللہ صاحب ) جب ان سینکڑوں تحاریر کو جعلی قرار دیکر ضایع کیا جا رہا تھا تو کیوں برناباس کی جعلی انجیل کو سنبھال کر رکھا گیا تھا اور وہ بھی مادر کلیسیا کی معتبر شخصیت کے پاس نہ کہ کسی مسلمان کے پاس جیسا کہ مسیحی اس بات کا ڈھول اس وقت سے پیٹ رہے ہیں جب زمانہ قریب میں انجیل برنباس منظر عام پر آئی. اس انجیل کے منظر عام پر آنے اور ابتدائی تراجم تک کسی بھی مسلمان کا کوئی ہاتھ نہیں نظر آتا. یہ سبھی مسیحی لوگ ہی تھے جنہوں نے یہ سب کام کیا مگر اس کے باوجود ہمارے دیسی عیسائی دوست اس بات کا دن رات شور مچاتے ہیں کہ یہ انجیل کسی مسلمان کی تصنیف ہے اور اس میں اسلامی تعلیم شامل ہے. دراصل انجیل برنباس میں جن عقائد کا ذکر ہے یہی عقائد ابتدائی مسیحی فرقے ابیونیوں کے بھی رہے ہیں جن کا ذکر انجیل میں بھی "دل کے غریب" نام سے کیا گیا ہے. عہد جدید کی تاریخ کے کسی قاری سے یہ بات مخفی نہیں ہے اور آج بھی اگر عہد قدیم کی روشنی میں یسوع کی تعلیمات کو پرکھا جائے تو مروجہ اناجیل سے بھی سچائی برآمد کرنا مشکل نہیں کہ یسوع کی اصل توحید کی تعلیم کیا تھی اور پولوسی افکار کی دھول میں چھپ کر اب کیا شکل اختیار کر گئی ہے. ابتدائی عیسائی کلیسیاء سچی تھی جو ان مشرکانہ تعلیم کی مخالف تھی، جنہیں پولس نے اپنے خط میں لعنتی قرار دیا، جو پولس کی آمد کے بعد بھی یسوع کی اصل توحید کی تعلیم کے علمبردار رہے یا موجودہ پولوسی عیسائی جھوٹے ہیں جو پولس کی اس مشرکانہ تعلیم کو الہامی سمجھ کر قبول کئے بیٹھے ہیں جو اس نے یسوع کا نام لے کر پیش کیں اور بعد ازاں رومی حکومت کی چھتری پا کر وہی اصل مسیحیت قرار دے دی گئی. 5. مسیحی ساتھی اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ انجیل برنباس میں واقعاتی و جغرافیائی تضادات موجود ہیں مگر ایک بھی تضاد سامنے لانے سے قاصر ہیں. بفرض محال اگر اس انجیل میں تضاد بیانی وجود رکھتی ہے تو اناجیل اربعہ میں بدرجہ اولی و جابجا اس کے نشانات ملتے ہیں. سب سے پہلے تو متی و مرقس کا تضادات سے مملو نسب نامہ یسوع ہے جس کی گتھی کو آج تک کوئی مسیحی علامہ و دلیلی سلجھا نہیں سکا اور فقط یہی تاویل کی گئی کہ ایک نسب نامہ مریم کا ہے اور دوسرا یوسف کا جبکہ یہودی کبھی بھی عورت کا نسب نامہ نہیں لکھتے تھے. انجیل نویس لوقا کی وقائع نگاری بھی محققین و تاریخ دانوں کے لئے انتہائی مشکوک اور باعث سردرد رہی ہے. یہاں ہم اختصارا اناجیل میں موجود چند تاریخی و جغرافیائی اغلاط کی نشاندہی کریں گے. 1. متی نے یسوع کی پیدائش کے وقت، یسوع کو مثیل موسی ثابت کرنے کے لئے بچوں کے قتل عام کا جو افسانہ گھڑا ہے تاریخ کی گواہی اس سے یکسر ناواقف یے. 2. اناجیل میں یسوع کے بارہ شاگردوں کے اسماء کے بارے میں بھی اختلاف ہے جو کہ باہم تقابل سے معلوم کیا جا سکتا ہے. 3. متی 23:35 میں ہیکل اور مذبح کے درمیان زکریاہ بن بارک یاہ کے قتل ہونے کا ذکر ہے جبکہ یہ واقعہ زکریاہ بن یویاداع کے ساتھ پیش آیا تھا (2-اخبار 24:21) یعنی متی کو یہ ہی نہیں معلوم کہ یہ قتل کس زکریاہ کا کیا گیا تھا؟ 4. متی یسوع کا آخری کھانا "فصح کھانا" بتاتا ہے (متی 26:17) یعنی عید فصح شروع ہو چکی تھی جبکہ یوحنا اسی کھانے کا وقت عید فصح سے قبل بتاتا ہے (یوحنا 13:1) اور یسوع کی مصلوبیت قبل از تناول فصح بتاتا ہے (یوحنا 18:28) 5. یہودا اسکریوطی کے پھانسی کا واقعہ متی و لوقا دونوں مختلف انداز سے نقل کرتے ہیں. متی کہتا ہے کہ اس نے خود کو پھانسی دے دی جبکہ لوقا کہتا ہے کہ وہ سر کے بل گرا اور اس کی انتڑیاں نکل گئی. 6. برابا ڈاکو کا سارا افسانہ انجیل نویس نے جھوٹ لکھا ہے کیونکہ اس وقت فلسطین میں یہودی حریت پسندوں کی تحریک زوروں پر تھی اور رومی کسی بھی یہودی باغی کو آزاد کرکے بغاوت کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے. یہ واقعہ بھی انجیل نویسوں کی رومی سلطنت کے اس وقت کے قوانین و قواعد سے لا علمی کا نوشتہ دیوار ہے. 7. واقعہ تصلیب کے وقت متی نے ایک اور تاریخی گپ ماری ہے کہ ہیکل کا پردہ چاک ہوگیا، زمین لرزی، وغیرہ وغیرہ. تاریخ سے کسی بھی ایسے زلزلہ کا ثبوت نہیں ملتا. 8. متی 27:45 اور لوقا 23:43 میں بارہ بجے سے تین بجے تک ملک میں سورج گرہن کا ذکر ہے جبکہ علم فلکیات 20ء تا 40ء کے درمیان اتنی طوالت کے مکمل سورج گرہن کی تصدیق نہیں کرتا. یہ فقط انجیل متی کی تاریخی و جغرافیائی غلطیاں ہیں دیگر اناجیل تو اس سے کئی گنا زیادہ واقعاتی تاریخی اور جغرافیائی تضاد سے بھری پڑی ہیں جن کا احاطہ کرنے کے لئے صفحات کے بجائے دفاتر درکار ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے پاکستانی دیسی عیسائیوں کو یہ تضاد کبھی نظر نہیں آتے ہاں انجیل برنباس کی سچائی پر دھول اڑانے کا مقدس فعل ضرور آتا ہے. اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں سچائی کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.