اسلام اور مذاہب عالم

حافظ محمد شارق

دورِ حاضر میں مذاہب کے درمیان مکالمے (Interfaith dialogue)کو ایک بڑی ضرورت اور خواہش کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ البتہ اس کا بنیادی اصول ہے کہ ہم اپنے مخاطب کے مذہب ، نظریات اور خیالات سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ اس کی نفسیات ، عقائد اور مذہب کو مدنظر رکھتے ہوئے  اس سے بات کی جا سکے۔  اکثر اہل علم اور پُرجوش مذہبی مبلغین اس بات کا خیال نہیں رکھتےاور وہ اپنی زبا ن سے ایسی منفی باتیں نکال بیٹھتے ہیں جس سے مخاطب کے دل میں شدید  نفرت جنم لیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مذاہب کے مابین جو اختلافات ہیں، اور ان کے جو عقائد ہیں ان کا ایک غیرجانبدارانہ (Impartial) مطالعہ کیا جائے اور ان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ بھی لیا جائے۔

اسی ضرورت کے پیش نظر انسٹیٹیوٹ آف انٹلیکچوئل اسٹڈیز اینڈ رلیجئس افئیرز (IISRA) ادارہ تحقیقاتِ مذاہب (Center for Interfaith Research) کے زیر اہتمام دنیا کے مشہور مذاہب سے متعلق ایک سیریز تیار کی گئی ہے جس کا عنوان ہے ’’مذاہب عالم پروگرام۔’‘ یہ تقابل ادیان اور مطالعاتِ بین المذاہب کے عام کورسز سے کچھ مختلف ہے۔ بالعموم مذاہب عالم کے جو کورسز پڑھائے جارہے ہیں ان میں سے اکثر متعصبانہ انداز میں لکھا جاتا ہے اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مصنف کے مذہب کی برتری  کو بھونڈے سے انداز میں بیان کیا جائے۔  دیگر مذاہب کی منفی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے اور مثبت چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مذہب کے مثبت پہلوؤں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس سے قوم پرستی کے جذبے کی تسکین تو ہوجاتی ہے ، مگر دیگر مذاہب کی صحیح تصویر سامنے نہیں آپاتی۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دیگر مذاہب کا نہایت ہی بے تعصبی سے غیر جانبدارانہ بلکہ ہمدردانہ مطالعہ کریں  تاکہ ان کا صحیح فہم حاصل ہواور مکالمے کی بنیاد طعن و تشنیع کے بجائے  علمی دلائل ہوں۔

 اس پروگرام میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ تمام مذاہب کے نقطہ نظر کو جیساکہ وہ ہیں، بغیر کسی کمی بیشی کے بیان کردیا جائے۔مذہب سے متعلق کسی بھی معاملے میں ہم نے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے سے گریز کیا ہے تاکہ قاری درست اور غلط نقطہ نظر کا فیصلہ خود کرسکے۔ مختلف مذاہب، علاقے اور پس منظر کے اعتبار سے ہم نے اس پروگرام کو مندرجہ ذیل  ماڈیولز میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • ماڈیولWR01: اس ماڈیول میں دنیا کے بڑے مذاہب جیسے ہندومت، عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور الحاد کاتعارف اور ان کی تاریخ کا اجمالی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
  • ماڈیول WR02: یہ ماڈیول دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں ہندومت کا تفصیلی مطالعہ آسان اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔دوسرے حصے کا موضوع اسلام اور ہندومت کا تعامل ،مشترکہ اقدار  اور دعوتی حکمت عملی ہے۔
  • ماڈیول WR03: یہ ماڈیول الحاد کے مفصل مطالعے پر مشتمل ہو گا۔
  • ماڈیول WR04: اس ماڈیول میں ہم یہودیت و عیسائیت کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔
  • ماڈیول-07 WR05: پانچویں سے ساتویں ماڈیول تک کی کتب دیگر مذاہب مثلاً کنفیوشسزم، تاؤازم، پارسی اور دیگر مذاہب سے متعلق ہوں گی۔  اس کے ساتھ ساتھ اس ماڈیول میں مختلف مذہبی تحریکوں کا بھی مطالعہ بھی کریں گے۔

مذاہب عالم پروگرام کے مقاصد

اس پروگرام کے مقاصد یہ ہیں:

  • دنیا کے بڑے مذاہب سے واقفیت حاصل کرنا
  • ان علوم سے واقفیت حاصل کرنا جو دنیا کی دیگر اقوام میں پائے جاتے ہیں
  • مذاہب کے درمیان مشترک پہلو تلاش کرنا تاکہ باہم رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ ہو۔

یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ابتدائی طورپر دنیا کے اہم مذاہب کا تعارف پیش کیا گیا ہے، چونکہ اس ماڈیول کا مقصد صرف طالب علم کی مذاہب عالم سے شناسائی کرانا ہے  اس لیے اس ماڈیول میں صرف بنیادی باتیں ہی ذکر کی گئی ہیں اور حوالہ جات صرف ضروری جگہوں پر دیے گئے ہیں۔ ہر ایک مذہب کے متعلق مزید تفصیل آپ متعلقہ ماڈیول میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف حافظ محمد شارق صاحب، جو ہماری ٹیم کے انتہائی محنتی رکن ہیں، خصوصی شکریے اور تحسین کے مستحق ہیں۔

محمد مبشر نذیر

جمادی الاول 1434/ مارچ 2013