ہر سال عید قرباں کے موقع پر یہ بحث عام ہوجاتی ہے کہ بندہ ایک مہنگا جانور خرید کر ذبح کرنے کے بجائے وہی رقم کسی غریب کو دے دے، کسی کا مکان بنوادے، شادی کروادے یا کسی بھی طرح یہ رقم قربانی کے بجائے رفاہِ عامہ سے متعلق کسی کام میں خرچ کیا جائے تو تو اللہ بھی خوش ہوگا اور غریب کا بھی فائدہ ہوگا۔عبادات میں معاملے میں گو کہ میں بلا چوں چراں عمل کا قائل ہوں لیکن جدید ذہن میں سوالات بہرحال اٹھ رہے ہیں جس جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلے یہ دیکھیے کہ یہ اعتراض اس قدر سطحی ہے کہ آپ دنیا کے ہر ایک کام پر یہی اعتراض پیش کرکے اسے بے کار قرار دے سکتے ہیں۔ذاتی استعمال کی گاڑی یا موبائل فون سے لے کر بڑی بڑی کانفرنسز میں ہونے والے اخراجات میں ہر جگہ یہی اعتراض وارد کیا جاسکتا ہے۔ضرورت تو ایک لاکھ کی گاڑی سے بھی پوری ہوسکتی ہے مگر اس کے باوجود لوگ اپنے ذوق کے لیے مرسڈیز تک لینے سے دریغ نہیں کرتے،محض ایٹم اور اس سے متعلقہ تحقیق پر یورپ و امریکہ میں اربوں ڈالر کی جو رقم خرچ کی جارہی ہے وہ دنیا میں تقسیم کردی جائے تو شاید ہی دنیا میں کوئی غریب رہے۔ اربوں روپے کی فلم بنا لی جاتی ہیں، ویلنٹائن، کرسمس اور دیوالی پر کڑوروں روپے ہوا میں اڑا دیے جاتے ہیں، نئے سال کے جشن پر لاکھوں کی آتش بازی سے بھی کسی کا دل نہیں کڑھتا مگر سال میں ایک مرتبہ ہونے والے اس عمل سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو یہ دراصل تعصب کی علامت ہے۔ جہاں تک غریب کی مدد کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کسی غریب کی مدد کرنا ، کسی مریض کا علاج کرنا ، شادی کروانا یا کسی بھی طرح اس کی مشکل کو حل کرنا بہت اجر کا باعث ہے لیکن ان چیزوں کو قربانی کے بدلے کا عمل نہیں بناسکتے۔ جو لوگ قربانی کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں نہیں روکا کہ وہ کسی کی مدد نہ کریں، تاہم یہ کہنا کہ قربانی کے بجائے کسی غریب کو رقم دے دی جائے بالکل ہی لغو بات ہے۔ان سارے کاموں کے لیے پورے سال ایک مسلمان کے لیے صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کا حکم موجود ہے اور الحمدللہ یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم مسلمان ہی ہے اور اسلام ہی وہ دین ہے جو انسان کو ضروریات سے زیادہ خرچ اور اسراف پر منع کرتا ہے۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "تم میں سے جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہے وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے، جس کے پاس ضرورت سے زیادہ سامان خردو نوش ہے وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم مختلف اجناس کا تذکرہ کرتے رہے حتیٰ کہ صحابہ اکرام نے سمجھا ضرورت سے زائد کسی چیز پہ بھی ہمارا حق نہیں۔"( صحیح مسلم، کتاب اللقطۃ) غریبوں کی عملی مدد کے بجائے کانفرنسز اور غیر ضروری تعیشات کو اسلام نے قطعاً حرام قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا ہے کہ انسان معاشرے میں موجود غرباء و مساکین کی مدد کریں۔ رفاہِ عامہ کے اس کام کے لیے اسلامی قوانین کے مطابق سال بھر کا موقع ہوتا ہے، حتیٰ کہ خیرات و صدقات کرنے سے انسان کے پاس عید کے موقع پر قربانی کے لیے رقم بھی نہ بچے تو بھی یہ اس کے لیے گناہ کا موجب نہیں ہوگا۔ قربانی تو اسلامی تعلیمات کے مطابق وہی لوگ کرتے ہیں جن کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ مقررہ مال عید کے موقع پر موجود ہو۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکرہے کہ اس اعتراض میں دراصل انسان کو ایک مشین کی طرح سمجھ لیا گیا ہے جس کا کسی سے کوئی روحانی و نفسیاتی تعلق نہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان جذبات و احساسات کا سمندر اپنے اندر موجزن رکھتا ہے۔ وہ ایک جذباتی و نفسیاتی وجود بھی رکھتا ہے اور اپنے تعلقات کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شادی بیاہ سالگرہ وغیرہ پر تحائف کا رواج رکھتا ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر جھنڈے اور چراغاں محض اپنے ملک سے اظہارِ محبت کے لیے کرتا ہے، اعتراض کرنے والے حضرات خود بھی نئے سال کے آغاز پر آتش بازی، میوزک کنسرٹ وغیرہ کرتے ہیں اور یہ سب لاکھوں کڑوڑوں روپے محض ’خوشی‘‘ جیسے مجرد تصور کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک خدا پرست انسان بھی خدا سے اپنے تعلق کا اظہار کرتا ہے اور یہ اظہار بھی محض اسراف نہیں بلکہ سماج میں معاشی پہیے کا چلانے میں مددگار ہوتا ہے۔ عید کے خاص موقع کو اللہ نے خاص جانور ذبح کے لیے مقرر کیا ہے اور اس میں بھی اللہ کی بے شمار حکمتیں ہیں۔ یہ کہنا کہ قربانی کی تمام رقم غریب کو دے دی جائے، اس بات سے لاعلمی کی علامت ہے کہ غربت کا علاج محض پیسے دے دینا نہیں ہوتا، بلکہ غریب طبقے کے لیے معاش کا پہیہ چلانا بھی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ جدید علم معیشت سے واقف حضرات ایک بنیادی اصول Multiplier سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ ٹریڈ سائیکل کی وجہ سے قومی آمدنی میں کس قدر اضافہ ہوتا ہے۔ سال میں ایک مرتبہ قربانی سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ کسی کی انفرادی شخص کی مدد سے حاصل نہیں ہوسکتے۔اس تہوار سے معاشی پیداوار کا عمل بڑھانے کا موقع ملتا ہے، فارمنگ اور کیٹل انڈسٹری کی نمو ہوتی ہے اور کسان ، سے لے کر قصائی ، جانور لانے والے ڈرائیور اور چٹائی بنانے والے تک لاکھوں لوگ محض ایک تہوار کی آمد سے معاشی طور پر خوشحال ہوتے ہیں۔Leather انڈسٹری میں اس تہوار کے بعد غیر معمولی حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر ان جانوروں کے گوشت میں بھی غریبوں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔اس طرح محض ایک تہوار کی بدولت پیسہ دولت مندوں کی تجوریوں سے نکل کر غریبوں کی جیب کی طرف سفر کرتا ہے۔ چنانچہ ذرا غور کریں تو یہ تہوار دراصل رحمت ہی رحمت ہے۔ ہمارے ایک عزیز کا جملہ نقل کرتے ہوئے اس تحریر کو ختم کرنا چاہوں گا۔ ‘‘قربانی کا بکرا سمارٹ فون سے سستا ہی ہوتا ہے لیکن آپ نے کسی کو یہ کہتے نہیں سنا ہوگا کہ سمارٹ فون کی بجائے غریب کی مدد کرو !!! حافظ محمد شارق