حصہ میں اتنی مختلف نسلیں  اور تہذیبیں مل کر ایک ہوئی ہوں جتنی شمالی ہندوستان میں ایرانی، یونانی، پرتھی، سیتھین، کشان اور ہن سب کے سب ایک نا ختم ہونے والے سلسلہ میں ہندوستان آئے. انہوں نے عارضی طور پر ہلچل پیدا کی مگر آخرکار یہ سب ایک ہی منظر کا جزو بن کر رہ گئے. انتہا یہ  کہ  یونانی بھی جو ایک واضح اور بعض حیثیتوں سے برتر تہذیب لے کر آئے تھے اس ناگزیر عمل سے نہ بچ سکے. ہندو مت کے فلسفیانہ مزاج پر انسان دوستی اور حسن اور فن کے یونانی تصورات اثر انداز نا ہوسکے. مسلمان اپنے ساتھ ایک نئے مذہبی عقیدے کا جوش لے کر آئے اور یہ  نقطہ ء نظر بعض بنیادی معاملات میں ہندوؤں سے قطعی مختلف تھا. ان کے زمانے میں ہندو مت دیوتاؤں کی کثرت، مورتی پوجا، اور ترک دنیا کی طرف مائل تھا جب کہ اسلام وحدت خداوندی، بت شکنی اور عملی و سماجی زندگی پر زور دیتا تھا. سولہویں صدی میں بابر سے لے کر شاہجہاں اور پھر آخری مغل بادشاہ ظفر تک ہندوستان نے پے بہ پے مختلف تاریخی سماجی، شخصیاتی، معاشرتی اور مذہبی شکست و ریخت کا سامنا کیا. اس دوران مختلف تہذیبوں کے تصادم اور میل  جول سے زبانوں کے  آمیزے نے جنم لیا تصوف کو فروغ بھی حاصل  ہوا اور اس کے خلاف مختلف تحاریک بھی چلائی گئیں موسیقی کے شعبے میں ہندو مسلم اختلاط کا امتزاج عمل میں آیا اور اس میں بھی مسلمانوں نے اوج و کمال حاصل کیا. قوالی اور سماع کی اہمیت اجاگر ہوتی رہی اور ہندو مسلم اختلاط پڑھتا رہا. بھگتی تحریکوں کو شہرت حاصل ہوئی اور ہندومت پر اس کا گہرا اثر پڑتا رہا یوں کئی  ہندو بھگت وحدت الوجود کے قائل  ہوئے انہوں نے وحدانیت کے درس دیئے اور عبادت فی الذات و فی الصفات میں شرک کی ممانعت کی. انہی حالات میں بابا گورو نانک دیو کا جنم بھی ہوا اور انہی حالات میں ان کی وفات بھی ہوئی. اجودھن چشتیہ سلسلے کے بزرگ خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمت اللہ علیہ کی تعلیمات کا بابا گورو نانک دیو پر انتہائی اثر ہوا کیونکہ بابا گورو نانک شیخ فرید الدین عطار کی پندرہویں پشت میں ان کے ایک پوتے شیخ ابراہیم فرید چشتی کے مرید ہوئے. اور مسلمان صوفیاء کا بابا نانک دیو کی زندگی ہر گہرا اثر ہوا. ڈاکٹر تارا چند نے اپنی کتاب میں influence of Islam on hindu culture میں لکھا ہے کہ گورو نانک جو سکھ مذہب کے بانی ہیں 1429 میں پیدا ہوئے ان کی ہمشیرہ کے خاوند کا نام جے رام تھا جو نواب دولت خان لودھی کا ملازم تھا. نواب دولت خان سلطان بہلول لودھی کا رشتہ دار تھا. ہمشیرہ  نے نانک کو بلا کر نواب دولت خان کے ہاں مال زکوٰۃ کا منشی تعینات کرایا. تیس سال کی عمر میں انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور گھر بار چھوڑ کر فقیری اختیار کر لی. گورو نانک نے ہندوستان، لنکا، ایران اور عرب کے چار سفر کئے اور چالیس سال تک ان ممالک کے مقدس مقامات کی زیارت میں مشغول رہے. شیخ شرف الدین بو علی قلندر پانی پتی کے آستانہ پر وہ ایک مدت رہے. علاوہ ازیں وہ مشائخ ملتان کی صحبت میں بھی رہے. نانک دیو کا مشن ہندو اور مسلمانوں کو ایک کرنا تھا. صوفیائے اسلام کی صحبت میں رہ کر انہوں نے ہندو عقائد مثل بت پرستی، اوتار کے متعلق عقائد ترک کر دیئے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ” خدا ایک ہے اور اس کا خلیفہ نانک سچ بولتا ہے” ڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں کہ.: ” اس سے صاف ظاہر ہے کہ گورو نانک پیغمبر اسلام کو اپنا راہبر سمجھتے تھے اور ان کی تعلیمات پر بھی یہی اسلامی رنگ ہے. پیغمبر اسلام کی طرح گورو نانک بھی خدائے واحد کی اطاعت کا مطالبہ کرتے ہیں. صوفیوں کی طرح نانک گورو یا راہبر کی متابعت ضروری سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک روحانی سفر کے چار مراحل تھے. سرن کھنڈ، انان کھنڈ، کرم کھنڈ اور سچ کھنڈ. کتاب نانک پرکاش کے مصنف لکھتے ہیں   کہ گورو نانک کے یہ چار مراحل صوفیاء کے چار مقامات، شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت پر  مبنی ہیں. اسلام کا گورو نانک پر کتنا گہرا اثر ہوا یہ بات خود بخود ظاہر ہے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ان کے اقوال و افعال اس کی شہادت دے رہے ہیں. چند معروف شخصیات کا بابا گورو نانک کے جنم دن کے حوالے سے خصوصی پیغام! گورو نانک دیو بین المذاہب اور معاشرتی ہم آہنگی کا نشان تھے اور ہماری سرزمین اپنے اس بیٹے پر فخر کرتی ہے. میں پوری پاکستانی قوم خاص طور پر سکھ کمیونٹی کو بابا گورو نانک کے جنم دن پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور سکھ کمیونٹی کو یہ تجویز دینا چاہتا ہوں کہ ان کے پاس نا صرف بابا گورو نانک جیسی شخصیت موجود ہے جس کا صحیح طور پر اپنی اگلی نسل سے تعارف بہت ضروری ہے صرف گورو نانک کا ہی نہیں بلکہ سکھ مذہب کی دوسری مشہور شخصیات جیسے بھگت سنگھ، سردار ہری سنگھ (تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے ساتھی) کے بارے میں اگلی نسل کو بتانا بہت ضروری ہے. یہ تعارف پاکستانی کی نظریاتی، اساسی معاشی اور معاشرتی ترقی میں اگلی نسل کا معاون ثابت ہو سکتا ہے اعظم معراج صاحب شہور مسیحی اسکالر اور کتابوں کے مصنف بابا گرونانک امن، بھائی چارے اور مذہبی روادی کے علم بردار تھے، جنھوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ ان کی زندگی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ فقط محبت ہے، جو دلوں کو  مسخرکرسکتی ہے۔ مشہور صحافی، انٹرویو نگار، ناول نگار اقبال خورشید صاحب جاری ہے